بدھ 9 ستمبر 2026 - 05:14
ایران کی مزاحمت اور امریکہ کی بے بسی!

حوزہ/دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت جب کسی ملک پر حملہ کرتی ہے تو اس کے ساتھ عموماً یہ دعویٰ بھی ہوتا ہے کہ دشمن کی عسکری طاقت چند دنوں میں ختم کر دی جائے گی، اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا اور جنگ اپنے مطلوبہ انجام تک پہنچ جائے گی۔ ایران کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی تصور پیش کیا گیا تھا۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت جب کسی ملک پر حملہ کرتی ہے تو اس کے ساتھ عموماً یہ دعویٰ بھی ہوتا ہے کہ دشمن کی عسکری طاقت چند دنوں میں ختم کر دی جائے گی، اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا اور جنگ اپنے مطلوبہ انجام تک پہنچ جائے گی۔ ایران کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی تصور پیش کیا گیا تھا۔

امریکہ کے پاس جدید ترین جنگی طیارے، میزائل، بحری بیڑے، سیٹلائٹ نگرانی، دنیا بھر میں فوجی اڈے اور بے پناہ مالی وسائل ہیں، جبکہ ایران کو اس کے مقابلے میں ایک نسبتاً کمزور فوجی طاقت سمجھا گیا۔ لیکن جنگ نے یہ ثابت کر دیا کہ جدید ترین ہتھیار کسی ملک کو نقصان تو پہنچا سکتے ہیں، مگر اس کی سیاسی مزاحمت کو لازماً ختم نہیں کر سکتے۔

جنگ کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ کس نے کتنے بم گرائے یا کتنی تنصیبات تباہ کیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جنگ شروع کرنے والے نے اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کیے یا نہیں۔ اگر ایک طاقتور ملک شدید حملے کے باوجود اپنے مخالف کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور نہ کر سکے، جنگ ختم نہ کر سکے اور مسلسل جوابی کارروائیوں کا سامنا کرتا رہے تو اسے مکمل فتح کہنا مشکل ہوتا ہے۔ ایران کو یقیناً اس جنگ میں شدید نقصان پہنچا ہے، لیکن ایران کا نقصان اور امریکہ کی فتح ایک ہی بات نہیں۔

آج کئی ماہ بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ شروع کیوں کی تھی اور وہ اپنے مقصد تک کہاں پہنچا؟ اگر مقصد ایران کو جھکانا، اس کی مزاحمت ختم کرنا اور اسے اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا تھا تو جنگ اب تک جاری کیوں ہے؟ میزائل حملے، بحری کارروائیاں، اقتصادی دباؤ، پابندیاں اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی یہ بتا رہی ہیں کہ معاملہ کسی فیصلہ کن انجام تک نہیں پہنچا۔

5 ستمبر 2026 کو ایران اور امریکہ کے درمیان سمندری محاذ پر ایک بار پھر شدید کشیدگی ہوئی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی بحری جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، جبکہ امریکی افواج نے جواباً تین ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔ یوں جنگ ایک واضح اختتام کے بجائے حملے اور جوابی حملے کے سلسلے میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہی صورتِ حال ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے: اگر ایران شکست کھا چکا ہے تو جنگ ابھی تک ختم کیوں نہیں ہوئی؟

امریکہ کے لیے مسئلہ صرف ایرانی مزاحمت نہیں بلکہ اس جنگ کی بڑھتی ہوئی عسکری قیمت بھی ہے۔ امریکی اعلیٰ فوجی قیادت کے بعض ارکان نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے کی کارروائیوں کو طویل عرصے تک جاری رکھنے سے دنیا کے دوسرے خطوں میں امریکی فوجی ذمہ داریاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ طویل جنگ کے نتیجے میں امریکی فوجی وسائل، ہتھیاروں اور اہلکاروں پر بڑھتا ہوا دباؤ اب خود واشنگٹن میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

پینٹاگون میں ہتھیاروں کے ذخائر سے متعلق حساس معلومات کے اخراج کی تحقیقات نے بھی اس دباؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایران جنگ کے دوران امریکی جدید ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ سے متعلق معلومات کے اخراج کی تحقیقات میں جوائنٹ اسٹاف کے تقریباً پچاس فوجی و سول اہلکاروں سے پولی گراف ٹیسٹ لیے گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان تمام اہلکاروں کو کسی جرم کا مرتکب قرار دیا گیا، لیکن اتنے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا ہونا اس معاملے کی غیر معمولی حساسیت ضرور ظاہر کرتا ہے۔

یہاں امریکہ کی طاقت کا ایک اہم تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن اپنی بے مثال عسکری قوت کا مظاہرہ کر رہا ہے، دوسری طرف خود امریکی دفاعی نظام میں طویل جنگ، محدود ہتھیاروں کے ذخائر اور فوجی وسائل پر بڑھتے دباؤ کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ضرور ہے، لیکن اس کے لیے بھی ایک طویل جنگ کی قیمت ہوتی ہے، خصوصاً جب اس کی فوج ایک ہی وقت میں دنیا کے کئی حصوں میں ذمہ داریاں ادا کر رہی ہو۔

ایران کی طاقت صرف اس کے میزائلوں میں نہیں۔ اس کا جغرافیہ، خلیج فارس میں اس کی پوزیشن، آبنائے ہرمز پر اس کا اثر، وسیع علاقائی نیٹ ورک اور طویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت اسے ایک مشکل حریف بناتی ہے۔ اسی لیے ایران کے خلاف جنگ کا اثر صرف ایرانی سرزمین تک محدود نہیں رہتا۔ خلیج میں ایک بحری کارروائی عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے اور آبنائے ہرمز میں معمولی کشیدگی بھی پوری دنیا کی تیل کی منڈی کو ہلا سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جنگ اب صرف ایران اور امریکہ کا معاملہ نہیں رہی۔ اس کے اثرات عالمی توانائی، بحری تجارت اور عالمی معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔ 5 ستمبر کی تازہ جھڑپوں کے بعد بھی صورتحال غیر یقینی رہی اور تیل کی قیمتوں پر دوبارہ دباؤ دیکھا گیا۔ دوسری طرف ساتویں ماہ میں داخل ہونے والی اس جنگ کے بارے میں خود امریکہ میں بھی تھکن اور اختلاف بڑھ رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک حالیہ سروے میں صرف 31 فیصد امریکیوں نے جنگ کی حمایت کی، جبکہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں اور جنگی تھکن عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہیں۔

اس تمام صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی فرق ذہن میں رکھنا ضروری ہے: کسی ملک کو نقصان پہنچانا اور اسے شکست دینا دو الگ چیزیں ہیں۔ امریکہ ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس کی معیشت پر دباؤ ڈال سکتا ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہوتی جب وہ ایران کو اپنے بنیادی سیاسی فیصلے تبدیل کرنے اور اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کر دیتا۔ اب تک ایسا نہیں ہوا۔

تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ جدید ترین ہتھیار ہمیشہ سیاسی فتح کی ضمانت نہیں ہوتے۔ ویتنام سے افغانستان تک کئی جنگوں نے ثابت کیا کہ کسی ملک کی عمارتیں اور فوجی تنصیبات تباہ کرنا آسان ہے، لیکن اس کی سیاسی مزاحمت ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل۔ جنگ میدانِ جنگ سے نکل کر سیاسی ارادے، عوامی مزاحمت، معیشت اور طویل المدت حکمتِ عملی کا امتحان بن جاتی ہے۔

ایران کے معاملے میں امریکہ نے یقیناً اپنی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کیا اور ایران کو بھاری نقصان پہنچایا، لیکن وہ اس نقصان کو ابھی تک ایک فیصلہ کن سیاسی فتح میں تبدیل نہیں کر سکا۔ دوسری طرف ایران بھی ناقابلِ شکست نہیں اور اسے انسانی، معاشی اور عسکری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مگر جنگ کا نتیجہ صرف نقصان کی مقدار سے نہیں نکلتا؛ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ آخرکار کون اپنے بنیادی سیاسی مقصد سے دستبردار ہوا۔

آج امریکہ کے سامنے یہی مشکل ہے۔ وہ جنگ شروع کرنے کی طاقت رکھتا ہے، لیکن ہر جنگ کو اپنی مرضی کے مطابق ختم کرنے کی طاقت رکھنا ایک الگ بات ہے۔ اگر کئی ماہ کی جنگ کے بعد بھی ایران مزاحمت کر رہا ہو، جنگ ختم نہ ہو رہی ہو، امریکی فوجی قیادت طویل کارروائیوں کے اثرات پر تشویش ظاہر کر رہی ہو، ہتھیاروں کے ذخائر پر سوال اٹھ رہے ہوں اور امریکی عوام میں جنگ سے بیزاری بڑھ رہی ہو تو کم از کم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی ایک آسان اور فیصلہ کن فتح میں تبدیل نہیں ہوئی۔

دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت ہونا اور ہر جنگ جیتنے کی طاقت رکھنا ایک ہی بات نہیں۔ بمباری طاقت کا مظاہرہ ہو سکتی ہے، مگر سیاسی فتح کی ضمانت نہیں۔ امریکہ نے ایران کو زخمی ضرور کیا ہے، لیکن خود بھی اس جنگ کی قیمت، دباؤ اور سیاسی نتائج سے محفوظ نہیں رہا۔ جس جنگ کو واشنگٹن نے اپنی طاقت کے مظاہرے کے طور پر شروع کیا تھا، وہ اب خود امریکی طاقت کی حدود کا امتحان بن چکی ہے۔

ایران شاید اس جنگ میں زخمی ہوا ہو، مگر امریکہ بھی سالم و بے داغ نہیں نکلا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha